اتوار 21 جون 2026 - 16:02
لبیک یاحسین، ہمارا شعار ہے / ہم آزاد پیدا ہوئے ہیں، ظلم اور جارحیت کو قبول نہیں کرتے

حوزہ / حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا: آج لبنان اپنی تاریخ کے سب سے خطرناک مرحلے اور امریکی، اسرائیلی اور بین الاقوامی مشترکہ سازش کا سامنا کر رہا ہے جو ملک اور ہمارے بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے شہید سید حسن نصراللہ کے مزار کے قریب امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: حزب اللہ کے اصول قومی، انسانی اور اخلاقی ہیں اور یہ زمین پر پائی جانے والی اعلیٰ ترین اقدار میں شمار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا: "لبیک یاحسین، ہمارا شعار ہے"۔ جس کا مطلب ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام ہمارا راستہ ہے اور یہی دینِ خدا کا راستہ ہے۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے مقاومت کے اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم آزاد پیدا ہوئے ہیں اور شعوری طور پر ظلم، غلامی، قبضہ اور سرپرستی کو قبول نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا: جب تک ہم ان اصولوں کو "حسین، ہمارا راستہ ہے" کے عنوان سے پیروی کریں گے، ہم کامیاب رہیں گے اور قبضے و جارحیت کے خلاف ہر قدم ہمارے لیے ایک فتح شمار ہوگا۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا: آج لبنان اپنی تاریخ کے سب سے خطرناک مرحلے اور امریکی، اسرائیلی اور بین الاقوامی مشترکہ سازش کا سامنا کر رہا ہے جو ملک اور ہمارے بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مقاومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور لبنان میں اس کی عوامی بنیاد کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا: دشمنوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے پہلے ایک ظالمانہ جنگ شروع کی جس میں غیر مسلح افراد کا قتل عام اور وسیع پیمانے پر تباہی شامل تھی۔ اگلے مرحلے میں، امریکہ اور صیہونی حکومت نے شام میں تبدیلیوں کے بعد علاقائی توازن میں تبدیلی دیکھ کر پچھلے معاہدوں کو نظر انداز کیا۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا: مقاومت، اس بڑی سازش کا مقابلہ کرتے ہوئے اور اپنی زمین کے دفاع کے حق پر انحصار کرتے ہوئے ایک مضبوط منصوبہ اور مقصد رکھتی ہے۔ حزب اللہ نے اپنی عسکری ساخت دوبارہ تشکیل دیا ہے اور اپنی لڑائی کی ٹیکنیکس اور ہتھیاروں بشمول ڈرون ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا ہے۔

انہوں نے کہا: آج حزب اللہ کو ختم کرنے کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے اور حتمی فتح کا مطلب ہے لبنان کی زمین کے ہر انچ سے قابضین کو مکمل اور قطعی طور پر نکالنا یقینی ہے۔کربلائی اور عاشورائی فیصلے کے ساتھ تسلیم ہونے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ مقاومت نے 15 ماہ کی حکمت عملی صبر کے بعد 2 مارچ سے فوجی جنگ کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور کبھی بھی اس تاریخ سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں جائے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha